اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب وزیر جنگ اسٹیو فائن برگ نے دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ 21 روز کے اندر ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تیاری و فراہمی کا وقت نمایاں طور پر کم کرنے کے منصوبے پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ کئی سال پر محیط موجودہ پیداواری دورانیہ امریکی فوج کی موجودہ ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پیداواری صلاحیت بڑھانا اور ہتھیاروں، بالخصوص نئی نسل کے میزائل شکن نظاموں کی فراہمی تیز کرنا اس ہدایت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ صنعتی دباؤ ایسے وقت میں بڑھا ہے جب نیویارک ٹائمز نے امریکی اسلحہ ذخائر میں تشویشناک کمی کی رپورٹ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایشیا اور یورپ میں امریکی افواج کے لیے مختص بعض گولہ بارود بھی اس خطے میں منتقل کیا ہے۔
امریکہ نے یورپ اور ایشیا کے مختلف علاقوں سے بعض جنگی بحری جہاز، طیارے اور فضائی دفاعی نظام بھی مشرق وسطیٰ منتقل کیے ہیں، جس سے دیگر علاقوں میں امریکی فوجی سازوسامان کی دستیابی، فوجیوں کی تیاری اور جنگی صلاحیت پر دباؤ بڑھا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض علاقوں، خصوصاً جزیرہ نما کوریا، میں امریکی فوج کی تیاری کی سطح میں کمی کے خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں، کیونکہ وہاں سے بعض ٹیکٹیکل انٹیلی جنس صلاحیتیں اور فضائی دفاعی نظام مشرق وسطیٰ منتقل کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے خلاف امریکی حملوں میں ہزاروں میزائلوں کے استعمال نے اسلحہ ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانے کے عمل کو ایک طویل مدتی چیلنج بنا دیا ہے، کیونکہ بعض ہتھیاروں کی تیاری میں دوبارہ کئی سال لگ سکتے ہیں۔
یوں پینٹاگون کو بیک وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے: مشرق وسطیٰ میں تیزی سے استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ذخائر کو بحال کرنا اور یورپ، ایشیا سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں امریکی فوج کی جنگی تیاری برقرار رکھنا۔
آپ کا تبصرہ